{"author":{"username":"mfa","displayName":"mfa","fid":516505},"timestamp":"2026-10-22T03:08:22.000Z","text":"آپ کی بات پڑھ کر اپنی یہ نظم یاد آئی۔  \nشاید بات وہی ہے: آزادی بھی رہے، مگر زبان میں تہذیب اور محبت بھی۔\n\nاُمید\n\nہم کہ اُمید بہر حال بہت رکھتے ہیں  \nاپنے انداز میں آداب مگر رکھتے ہیں\n\nشعلۂ نار نہیں، گل نہیں، گلزار نہیں  \nاپنی گفتار میں اندازِ فقر رکھتے ہیں\n\nہم فقیروں کا تعارف بھی عجب ہوتا ہے  \nکم لبادہ سہی، پر شانِ سفر رکھتے ہیں\n\nہم وہ درویش کہ دنیا سے خفا بھی کم ہیں  \nزخم کھاتے ہیں مگر حسنِ نظر رکھتے ہیں\n\nنہ ہمیں شور کی حاجت، نہ نمائش کا ہنر  \nہم تو سادہ سے چراغوں میں سحر رکھتے ہیں\n\nجو بھی کہنا ہو، محبت سے کہا کرتے ہیں  \nہم زبانوں میں بھی تہذیب کا گھر رکھتے ہیں","farcaster":"https://farcaster.xyz/mfa/0x7764786369071f42b31f6ab77f52802c61d29659","firefly":"https://firefly.social/post/farcaster/0x7764786369071f42b31f6ab77f52802c61d29659"}