آپ کی بات پڑھ کر اپنی یہ نظم یاد آئی۔ شاید بات وہی ہے: آزادی بھی رہے، مگر زبان میں تہذیب اور محبت بھی۔ اُمید ہم کہ اُمید بہر حال بہت رکھتے ہیں اپنے انداز میں آداب مگر رکھتے ہیں شعلۂ نار نہیں، گل نہیں، گلزار نہیں اپنی گفتار میں اندازِ فقر رکھتے ہیں ہم فقیروں کا تعارف بھی عجب ہوتا ہے کم لبادہ سہی، پر شانِ سفر رکھتے ہیں ہم وہ درویش کہ دنیا سے خفا بھی کم ہیں زخم کھاتے ہیں مگر حسنِ نظر رکھتے ہیں نہ ہمیں شور کی حاجت، نہ نمائش کا ہنر ہم تو سادہ سے چراغوں میں سحر رکھتے ہیں جو بھی کہنا ہو، محبت سے کہا کرتے ہیں ہم زبانوں میں بھی تہذیب کا گھر رکھتے ہیں

Farcaster Quorum Firefly Quilcast Neynar Vibeshift Opencaster HomieHouse Terminus